منگل. اکتوبر 22nd, 2019

"بابا صاحب”

تحریر:پروفیسر محمد عبداللہ بھٹی
تاریخ تصوف کے عظیم ترین فرزند حضرت بابا فرید الدین مسعودکو بچپن سے ہی مطالعے کا بہت زیادہ شوق تھا ابتدائی تعلیم کے لیے آپ کو کوٹھوال کے مدرسے میں داخل کرا دیا گیا یہاں پر آپ کی ابتدائی علمی پیاس اُس زمانے کے عالم فاضل استاد جناب سید نذیر احمدنے بجھائی دن رات خوب محنت کے بعد 11سال کی عمر میں قرآن مجید حفظ کرنے کی سعادت حاصل کر لی اِس سعادت کے بعد عظیم ترین والدہ ماجدہ کے ساتھ حج بیت اللہ کے لیے تشریف لے گئے اِس قافلے میں رشتہ داروں کی قربت بھی میسر تھی لیکن اِن سب کی موجودگی کے باوجود ننھا فرید الدین اداس تھا تو والدہ بولیں فرید تم حج کی سعادت کے لیے مکہ مدینہ جا رہے ہو پھر بھی تم خوش نظر نہیں آرہے تو سلسلہ چشت کا عظیم روشن چراغ بولا اماں جان میری یہ شدید ترین خواہش ہے کہ اِس سفر میں میرے عظیم استاد گرامی بھی ہمارے ساتھ جائیں کیونکہ استاد محترم سید نذیر احمد مالی طور پر مستحکم نہیں تھے کہ حج بیت اللہ کے اخراجات برداشت کر سکیں لیکن غیور اِس قدر تھے کہ کسی کے سامنے کبھی بھی دست سوال دراز نہ کیا ننھے فرید اپنے استاد کی مالی تنگی اورغیرت سے بخوبی واقف تھے اِس لیے اپنی والدہ صاحبہ سے اپنے استاد کی سفارش کی کہ میرے محترم استاد نے میرے اوپر علم کے تمام خزانے لٹا دئیے ہیں میری روح قلب کی تشنگی کو علم کے سمندر سے سیراب کر دیا ہے اِس لیے میرا دل چاہتا ہے کہ میرے عظیم استاد حج بیت اللہ میرے ساتھ ادا کریں ‘ خدا ئے بزرگ و برتر نے ہمیں اِس قابل بنایا ہے کہ ہم استاد گرامی کے سفری اخراجات برداشت کر سکیں اِس طرح میں اپنے عظیم استادکے احسانوں کا بدلہ نہیں دے رہا بلکہ احسانوں کے بوجھ کو تھوڑا کم کر نا چاہتا ہوں ‘ بیٹے کا عظیم جذبہ دیکھ کر ماں کی آنکھیں بھر آئیں اور بولیں خدا تعالیٰ کا کس طرح شکر دا کروں کہ اُس عظیم ذات باری تعالی نے مجھے ایسے فرزند سے نوازا ہے جو کسی کا بھی احسان فراموش نہیں ہے اب جب یہ قافلہ حج اپنی منزل مقصود کی طرف بڑھ رہا تھا تو فرید الدین کے استاد گرامی بھی قافلے کا حصہ تھے اِس وجہ سے ننھے فرید الدین کی خوشی ناقابل بیاں تھی اس طرح نو عمری میں ہی فرید الدین حج کی سعادت سے سرفراز ہو گئے واپسی پر آپ کو مزید تعلیم کے لیے ملتان بھیج دیا گیا علم کا شوق آپ کو بچپن سے تھا آپ شب و روز خوب محنت کر کے مولانا منہاج الدین کی مسجد میں اپنی علمی پیاس بجھا رہے تھے جوانی میں جہاں عام نوجوانوں کے اپنے ہی مشاغل ہو تے ہیں کھیل کو د اور تماشوں میںوقت گزارنا لیکن فرید الدین کو تو کتابوں اور مطالعے کے علاوہ کو ئی شوق تھا ہی نہیں ‘ دن رات کتابوں میں گم رہتے آپ کی علمی اور روحانی پیاس ہر گزرتے دن کے ساتھ بڑھتی جا رہی تھی یہاں پر آکر سینکڑوں کتابیں پڑھنے کے بعد من کی بے چینی اضطراب کھوج تلاش ہر گزرتے دن کے ساتھ بڑھتی جا رہی تھی کہ قدرت کو آپ پر رحم آگیا جب آپ کی عمر اٹھارا سال تھی تو آپ کی زندگی کا رخ موڑنے والا یہ عظیم واقعہ رونما ہوا یہ 587ہجری کی بات ہے کہ ایک دن آپ روزمرہ کی طرح کتاب پکڑے دنیا مافیا سے گم اُس کے مطالعے میں غرق تھے انہماک کا یہ عالم کہ دنیا مافیا سے بے خبر تھے اردگرد کیا ہو رہا ہے اِس سے مکمل بے خبر تھے کہ اچانک محویت ایک سحر انگیر خوشبو سے ٹوٹ گئی کسی کی آمد کے سبب ایک سحر انگیز خوشبو نے ماحول کو معطر کر دیا تھا اِس اچانک خوشگوار تبدیلی کی وجہ سے فرید الدین کے خوابیدہ اعصاب بیدار ہو ئے تو کیا دیکھتے ہیں ایک روشن چہرے والے بزرگ پاس سے گزر کر وضو خانے کی طرف جا رہے ہیں بابا فرید ساکت بت کی طرح ایک ٹک اُن کو دیکھے جا رہے تھے یہ بزرگ برصغیر پاک و ہند کے عظیم ترین بزرگ خواجہ معین الدین چشتی اجمیری شہنشاہ ِ ہند کے خلیفہ اکبر خواجہ قطب الدین بختیار کاکی تھے جو حضرت بہاﺅالدین ذکریا کی دعوت پر ملتان میںآئے ہو ئے تھے فرید الدین نے ایک نظر انہیں دیکھا تو کتابوں سے دل اچاٹ سا ہو گیا بار بار مطالعے کی کو شش کر تے تو لفظ بے جان سوکھے نظر آتے لطف ختم بلکہ پڑھنے کی کو شش کر تے تو بیزارگی آگھیرتی ‘ آخر تنگ آکر کتاب بند کر کے رکھ دی اور خواجہ قطب الدین کو یکسو ہو کر دیکھنے لگے خواجہ قطب وضو کر کے نماز کی ادائیگی میں مشغول ہو گئے تو فرید الدین نے ایک بار پھر کتاب میں پناہ ڈھونڈنے کی کو شش کی لیکن کتاب اب اپنی کشش کھو چکی تھی بلکہ ساری دنیا کے رنگ اب فرید کو بے رنگ لگ رہے تھے ایک عجیب سی حلت فرید الدین ؒ پر طا ری تھی یہ ساری تبدیلی روشن چہرے والے بزرگ کو دیکھنے کے بعد آئی تھی کیونکہ خواجہ قطب الدین بختیار کاکی ؒ کے چہرے مبارک پر ایک خاص قسم کا نور پھیلا ہو اتھا جو فرید الدین نے پہلے کسی دوسرے انسان کے چہرے پر نہیں دیکھا تھا روشن چہرے والے بزرگ کے جسم اور چہرے سے عجیب مقناطیسی کشش اطراف کو سحر انگیز کر رہی تھی نوجوان فرید الدین بھی اِس سحر انگیزی کا شکار رہ چکے تھے اِس خوشگوار سحر انگیزی نے نوجوان فرید کو اپنے گر فت میں لے رکھا تھا ۔آپ ٹکٹکی باندھے روشن چہرے والے بزرگ کو دیکھی جار ہے تھے کہ خواجہ قطب الدین نے نماز ادا کی اور پھر مسجد کے اُس گو شے تشریف لا ئے جہاں فرید الدین مسعود مطالعہ کیا کر تاتھا جیسے ہی خواجہ قطب الدین فرید الدین کے قریب ہو ئے تو نوجوان فرید آپ کے جلال معرفت کی تاب نہ لا تے ہو ئے احتراماً اٹھ کھڑا ہوا جوان کا ادب و احترام دیکھ کر حضرت خواجہ قطب الدین بختیار کاکی رک گئے دل آویز ملکوتی تبسم کے ساتھ بو لے اے نوجوان کو نسی کتاب پڑھ رہے ہو تو آنے والی صدیوں کا عظیم درویش بزرگ کے جلا ل معرفت سے لرزنے لگا جوان کہ یہ حالت دیکھ کر خواجہ قطب اور بھی شیریں شفیق لہجے میں بو لے اے جوان کو نسی کتاب پڑھ رہے ہو تو جوان لرزتے ہونٹوں سے بولا جناب نافع کا مطالعہ کر رہا ہوں جوان فرید کے جسم کے انگ انگ سے ادب و احترام پھوٹ رہا تھا خواجہ قطب الدین جوان کے اِس روئیے پر خوش ہو کر بو لے بہت خوب یہ بہت اچھی کتاب ہے جو تمہیں بہت نفع دے گی میرا نفع تو آپ کی ایک نظر میں ہے جو مجھ پر پڑ جائے تو جوان فرید لرزتے لہجے میں درخواست گزار ہوا ‘ جوان کی عقیدت سن کر خواجہ قطب خوشگوار حیرت سے بولے اے جوان تم جانتے ہو میں کون ہو ں کہاں سے آیا ہو تو جوان فرید بولا آپ بجا فرمارہے ہیں میں اقرار کر تا ہوں کہ میں آپ کو نہیں جانتا اور نہ ہی یہ پتہ ہے کہ آپ کہاں سے آئے ہیں اور کدھر جارہے ہیں مگر میر ا دل و دماغ ایک ہی بات کہہ رہے ہیں کہ تم کو جس راہنما کی تلاش تھی وہ یہی ہیں اور اے شاہا آپ دہ روشن متبرک ہیں اے عظیم مسیحا مجھ غریب سیا ہ کار کو اپنے قدموں میں جگہ دے دے مجھے گمنامی کے اندھیروں سے واحدانیت کی روشنی میںلے آئیں جوان فرید بلک بلک کر غلامی کی درخواست کر رہا تھا خواجہ قطب نواجوان کے جذبہ عقیدت و احترام سے بہت متاثر ہو ئے آگے بڑھ کر جوان کے کندھے پر ہاتھ رکھا اور بو لے میں شیخ بہاءالدین زکریا ملتا نیؒ کے مہمان خانے میں ٹہرا ہو ں جب موقع ملے تو ملنے ضرور آنا ‘ جوان فرید خو شی عقیدت و مسرت میں رونے لگا خواجہ جی کا ہاتھ چوما اور وعدہ کیا قدم بو سی کو ضرور آﺅں گا ۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Chat with us on WhatsApp