منگل. اکتوبر 22nd, 2019

ٹرمپ مواخذہ تحقیقات : وائٹ ہاوس کا تعاون سے انکار

واشنگٹن (آن لائن) امریکی صدر کے دفتر نے باقاعدہ طور پر صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے مواخذے کے لیے ہونے والی تحقیقات میں تعاون کرنے سے انکار کر دیا ہے۔ ڈیمو کریٹ جماعت کے رہنماو¿ں میں بھیجے گئے ایک خط میں ان تحقیقات کو ’بےبنیاد‘ اور ’آئینی طور پر غیرقانونی‘ قرار دیا گیا ہے۔ڈیموکریٹس کی اکثریت والے ایوان کی تین کمیٹیاں صدر ٹرمپ کے خلاف تحقیقات کر رہی ہیں۔ان تحقیقات میں یہ معلوم کرنے کی کوشش کی جا رہی ہے کہ آیا صدر ٹرمپ نے اپنے سیاسی حریف جو بائیڈن کے خلاف تحقیقات شروع کروانے کے لیے یوکرین کی حکومت پر امداد کو بطور دباو¿ استعمال کیا۔وائٹ ہاو¿س کے وکیل پیٹ کیپولون نے اس خط میں ایوانِ نمائندگان کی سپیکر اور ڈیموکریٹ رہنما نینسی پلوسی اور کانگریس کی تین کمیٹیوں کے ڈیموکریٹ سربراہان کو مخاطب کر کے الزام عائد کیا ہے کہ وہ ایسی تحقیقات کر رہے ہیں جو ’انصاف کے بنیادی اصولوں کے خلاف‘ ہے۔خط میں ڈیموکریٹس پر 2016 کے انتخاب کے نتائج تبدیل کرنے کی کوشش کرنے کا الزام بھی لگایا گیا ہے اور تحقیقات کو ’آئینی طور پر غیرقانونی اور مروجہ طریقہ کار کی خلاف ورزی‘ بھی قرار دیا گیا ہے۔خط میں کہا گیا ہے کہ ’امریکی عوام کے تئیں اپنی ذمہ داریاں پوری کرنے کے لیے صدر ٹرمپ اور ان کی انتظامیہ آپ کی جانبدارانہ اور غیرآئینی تحقیقات میں کسی بھی قسم کے حالات میں شریک نہیں ہو سکتے۔‘وائٹ ہاو¿س کی جانب سے تحقیقات میں تعاون سے انکار کے بارے میں خط ٹرمپ انتظامیہ کی جانب سے یورپی یونین کے لیے امریکی سفیر کو کانگریس کی تحقیقاتی کمیٹی کے سامنے پیش ہونے سے روکے جانے کے چند گھنٹے بعد سامنے آیا ہے۔گورڈن سونڈ لینڈ نے منگل کو تین سرکردہ ارکین پر مشتمل تحقیقاتی کمیٹی کے سامنے پیش ہونا تھا۔ اس کمیٹی کے چیئرمین نے انھیں اس سلسلے میں قانونی نوٹس بھجوایا تھا۔ان سے اس بارے میں پوچھ گچھ کی جانی تھی کہ آیا انھوں نے یوکرین سے صدر ٹرمپ کے حریف جوبائیڈن کے خلاف تحقیقات کے لیے مطالبے میں کوئی کردار تو ادا نہیں کیا۔گورڈن سونڈ لینڈ نے کہا ہے کہ انھیں امریکی محکمہ خارجہ نے منگل کی صبح حکم دیا کہ وہ کانگرس کے سامنے جوابدہی کے لیے پیش نہ ہوں۔ان کے وکیل رابرٹ لسکن کی جانب سے جاری بیان میں کہا گیا تھا کہ ‘سفیر سونڈ لینڈ اس بات پر سختی سے یقین رکھتے ہیں کہ انھوں نے ہمیشہ امریکہ کے مفاد میں کام کیا ہے اور وہ کمیٹی کے سامنے تمام سوالات کے مکمل طور پر سچائی کے ساتھ جواب دینے کے لیے تیار ہیں۔وکیل کا کہنا ہے کہ سونڈ لینڈ ‘ گہری مایوسی’ کا شکار ہیں کیونکہ انھیں اس پیشی کے لیے برسلز سے واشنگٹن تک کا سفر بھی کرنا پڑا۔صدر ٹرمپ نے سماجی رابطوں کی ویب سائٹ ٹوئٹر پر اپنے پیغام میں کہا کہ سونڈ لینڈ ’کینگرو کورٹ‘ کے سامنے پیش ہو رہے ہیں۔انٹیلیجنس کمیٹی کے چیئرمین ایڈم سکف نے صحافیوں سے گفتگو میں کہا کہ سفیر کی جانب سے پیغامات یا ای میلز بھجوائی گئی تھیں اور ان کا تحقیقات سے گہرا تعلق ہے۔وہ کہتے ہیں کہ وہ بات چیت وزارت خارجہ کو بھجوائی گئی جسے انھوں نے چھپایا ہے۔کیلیفورنیا سے تعلق رکھنے والے ڈیموکریٹک پارٹی کے امیدوار نے کہا ہے کہ ‘اس عینی شاہد کو پیش کرنے میں ناکامی اور ان دستاویزات کو پیش کیے جانے میں ناکامی کو ہم اس بات کا ایک اضافی اور مضبوط ثبوت سمجھتے ہیں کہ کانگرس کو آئینی کردار ادا کرنے کی راہ میں رکاوٹیں ہیں۔‘لیکن ریپبلکن جماعت کے رہنما جم جارڈن کا کہنا ہے کہ انھیں اندازہ ہے کہ وزارت خارجہ نے کیوں سونڈ لینڈ کو کمیٹی کے سامنے پیش ہونے سے روکا ہے کیونکہ تحقیقات ‘غیر مصنفانہ اور تعصب پر مبنی ہیں۔‘ڈیموکریٹس کی سربراہی میں ہونے والی تحقیقات میں یہ ثابت کرنے کی کوشش کی جا رہی ہے کہ کیا رپبلکن جماعت سے تعلق رکھنے والے صدر ٹرمپ نے یوکرین کی تقریباً چار کروڑ امریکی ڈالر کی امداد روکی اور یوکرینی حکام کو جو بائیڈن کے بیٹے ہنٹر بائیڈن کے خلاف تحقیقات کے لیے کہا جو یوکرین میں توانائی کے شعبے میں کام کرتے ہیں۔25 جولائی کو صدر ٹرمپ نے یوکرینی ہم منصب کو ایک فون کال میں کہا کہ وہ سابق امریکی نائب صدر کے بارے میں جو آئندہ انتخابات میں ڈیموکریٹس کے مرکزی امیدوار بھی ہیں، تحقیقات کریں۔اس فون کال پر مخبر نے تحفظات کا اظہار کیا اور ایوان نمائندگان میں ڈیموکریٹک لیڈر نے سپیکر نینسی پلوسی سے بات کی جنھوں نے گذشتہ ماہ مواخذے کی رسمی کارروائی کا اعلان کیا۔مواخذہ اس دو مرحلوں پر مشتمل سیاسی عمل کا پہلا مرحلہ ہے جس میں کانگریس صدر کو ان کے عہدے سے ہٹا سکتی ہے۔اگر ایوانِ نمائندگان مواخذے کی کارروائی کی منظوری دیتا ہے تو سینیٹ پر لازم ہے کہ وہ مقدمہ چلائے۔سینیٹ میں صدر کے مواخذے کے لیے دو تہائی اکثریت درکار ہوتی ہے جو صدر ٹرمپ کے سلسلے میں ممکن دکھائی نہیں دیتا کیونکہ سینیٹ میں ان کی جماعت کو اکثریت حاصل ہے۔آج تک امریکی تاریخ میں دو صدور، بل کلنٹن اور اینڈریو جانسن کا مواخذہ ہوا ہے تاہم دونوں کو ہی نہ تو مجرم قرار دیا گیا اور نہ عہدے سے ہٹایا گیا تھا۔ان کے علاوہ صدر رچرڈ نکسن نے مواخذے کی کارروائی سے قبل ہی استعفیٰ دے دیا تھا۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Chat with us on WhatsApp