جمعرات. جنوری 23rd, 2020

عظیم کردار تاریخ کے دامن پر ثبت

تحریر: چوہدری یٰسین کسانہ
قدرت عظیم کردار کی محور شخصیتوں کو نابغہ روزگار ہستیوں سے معنون کرنے کےلئے ان سے ایسے کام کروا دیتی ہے جو انہیں تاریخ کا حصہ بنا دیتے ہےں۔ انسانی عظمت بلاامتیاز فلاح انسانیت کا کام کرنے سے قدرت ودیعت کرتی ہے جیسے صبح کی شبنم پھولوں، کونپلوں کو نئی تازگی رعنائی بخشتی ہے اسی طرح بعض افراد اپنی قوم اور معاشرے کےلئے اپنا ایسا کردار ادا کردیتے ہےں جنہیں اوج کمال اور شرف قوم سے موسوم کیا جاسکتا ہے۔ مادر وطن کے محسن اور عظیم محب وطن چوہدری رحمت علی رحمتہ اللہ علیہ جنہوں نے مادر وطن کی شناخت کےلئے ایک خوبصورت اور دل پذیر نام ”پاکستان“ دیا یہ نام قدرت نے ایک نعمت کے طور پر ان کے ذہن و قلب کو ودیعت کیا جو ان کے کردار کے حوالے سے تاریخ کے دامن پر ہمیشہ ہمیشہ کےلئے ثبت ہو گیا اگر سرزمین پاک پر رہنے والے ہر فرد کی شناخت پاکستان ہے تو پاکستان کی شناخت اور تشخص چوہدری رحمت علیؒ ہےں یہ لفظ پاکستان قدرت کی کمال محبت کا مسلمہ ثبوت ہے اور اس کی تخلیق کا محرک چوہدری رحمت علیؒ ہےں۔ پاکستان کی تاریخ خالق لفظ پاکستان چوہدری رحمت علیؒ کے ذکر کے بغیر ادھوری ہے۔مادر وطن کا بہت ہی دلکش نام پاکستان ہے اور جو فرحت انگیز کیفیت سے معمور تشخص ہے اور یہی تشخص پاکستان کو نام دینے والے چوہدری رحمت علی کی عظمت اور اعزاز کا محور ہے۔ قیام پاکستان سے پہلے ایک علیحدہ وطن کے لئے ان کی پرخلوص جدوجہد اور قریہ قریہ گاﺅں گاﺅں اس پاک دھرتی کے خطےع کی آزادی کےلئے انتھک مساعی اور لوگوں میں جذبہ آزادی کو اجاگر کرنا بھی ان کا عظیم کارنامہ اور جدوجہد کی تاریخ ہے جس سے آئندہ نسلیں جدوجہد، محنت کی روشنی حاصل کرتی رہیں گی۔یہ اولوالعزم شخص حوادث زمانہ کے تھپیڑوں کو عزم و استقلال سے سہتا رہا لیکن جستجوئے منزل کی تلاش میں ہمیشہ پورے جذبہ سے مصروف عمل رہا۔ قدرت نے جس انسان سے کوئی بڑا کام لینا ہوتا ہے اسے ہمت، امید اور جستجو کا وہ جذبہ عطا کر دیتی ہے جو ان کی انتہائی خواہش ہوتی ہے۔ لفظ خالق پاکستان چوہدری رحمت علیؒ نے اپنے دلائل سے آزادی کی مخالف قوتوں میں سراسیمگی پیدا کردی جس سے یہ مخالف قوتیں محتاط اور سمجھ گئیں کہ یہ نوجوان دوسرے اکابرین پاکستان بانی پاکستان قائداعظم محمد علی جناحؒ، خان لیاقت علی خان، سردار عبدالرب نشتر، راجہ صاحب محمود آباد، سید جماعت علی شاہ اور دوسرے مشائخ کی طرح نہ صرف مدلل ٹھوس نظریہ پاکستان رکھتا ہے بلکہ اپنے اصولوں، موقف میں کبھی لچک پیدا نہیں کرے گا اس کے ذہن اور قلب میں اپنے اسلاف کے کردار، کارنامے تابندہ ہےں۔ یہ پورے عزم اور ہمت سے باطل کے طوفانوں میں حق کی شمع روشن کرے گا کفریہ طاقتوں میں وہ جذبہ، ہمت ناپید ہوگی جس سے یہ سچائی کو مکر و فریب کی عیونکوں سے بجھا دیں گے اپنے موقف اور اصولوں پر ڈٹ جانے والے ہی کامرانیوں کی منزل پر پڑاﺅ کرتے ہےں۔ قدرت نے اس سحر انگیز دھرتی کی شناخت کےلئے نام دینے کےلئے چوہدری رحمت علی کے کردار کو پسند کیا۔ انسان کی عظمت اللہ تعالیٰ اس کے کردار کے ذریعے سے اجاگر کرتے ہےں۔ چوہدری رحمت علی شروع سے ہی اوصاف حمیدہ کے مالک تھے کون جانتا تھا کہ ایک زمیندار گھرانے کا ہونہار اس آزاد ہونے والے وطن کو ایسا باوقار نام دے گا جو جنوب مشرقی ایشیاءکا گیٹ وے اپنی جغرافیائی حیثیت کا انفرادیت سے بھرپور پہلو رکھتا ہے اور یہ اسلامک بلاک کا ایٹمی ملک جس کو قدرت نے بے پناہ وسائل کے خزانے ودیعت کئے ہےں ایک دن اسلامی دنیا کی امیدوں کا مرکز جو ایٹمی صلاحیت اور دفاعی لحاظ سے بہترین زاویہ رکھتا ہے عالمی سطح پر اپنا بہترین کردار ادا کرتا نظر آئے گا۔ حالات تغیر و تبدل کے پہلو مسلسل بدل رہے ہےں اور چوہدری رحمت علی کا پاکستان لمحہ بہ لمحہ اپنے بہترین تشخص کے ساتھ بین الاقوامی سطح پر نمایاں ہو رہا ہے۔ قدرت نے چوہدری رحمت علی کے قلب و ذہن میں عظیم نام پاکستان ودیعت کرکے اس کے کردار کو لافانی کردیا پاکستان اور چوہدری رحمت علی قلبی طور پر پیوستہ ہےں۔ انہوں نے قیام پاکستان سے پہلے آزادی وطن کی تحریک کی شمع سے انگریزوں اور ہندوﺅں کے گمراہ کن اندھیروں میں روشنی کی وہ قائداعظم و لیاقت علی خان کے جانثار ساتھی تھے۔ ان کے سامنے مسلمانوں کی شان و شوکت عسکری و معاشی اچھی تاریخ تھی۔ وہ قومی وحدت کو برقرار رکھنے کےلئے ہمیشہ آمادہ پیکار رہے ان کی ذات بہت وسیع تھی۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Chat with us on WhatsApp