جمعرات. جنوری 23rd, 2020

کرتارپور راہداری افتتاح، بھارت کی ریڑھ کی ہڈی پر ضرب

تحریر : سید نورالحسن گیلانی
مقبوضہ کشمیر میں 98روز لاک ڈاﺅن کو گزر گئے مگر بھارت اپنی مکاریوں سے باز نہ آیا ۔خرگوش کی دوڑ دوڑنے کی ضد میں انسانیت کو بھی مودی سرکار بھول گیا ۔کرتارپور راہداری کی وجہ سے موقع پر بھارت اندرونی سطح پر مکمل طور پر ٹوٹ پھوٹ کا شکار ہوچکا ہے ۔خالصتان کی تحریک ایک بار پھر ابھر گئی ! جس کی وجہ سے مودی سرکار اپنی چالوں میں پھنس کر رہ گئی ۔اب توپنجاب میں سکھوں کی جانب سے انڈین ترنگے کو اتار کر پاکستانی جھنڈے لہرائے گئے اور عمران خان اور سدھو کی دوستی کے گیت بھی سنائے دینے لگے۔بھارت اپنی مکار چال چل کر انسانی حقوق کی پامالی کرتا آرہا ہے جبکہ پاکستان نے ہمیشہ اپنی پرامن ،پروقار چال چل کر بھارت کو اُسی کے گھر میں مات دے دی ہے ۔اِس وقت جہاں بھارت میں 150تحریکیں چل رہی ہیں مگر اِن تحریکوں میں سب سے بڑی تحریک خالصتان سکھوں کی جانب سے متحرک ہے اور سکھوں نے مسلمانوں کا ساتھ دینے اور پاکستان کے حق میں نعرے لگانے شروع کردےے ہیں جس کا اثر یورپ اور عرب میں بھی پھیل چکا ہے اب ہر طرف مودی اور بھارت کے خلاف نعرے بازی ہورہی ہے ۔اگر دیکھا جائے تو ان تمام تر اقدامات میں پاک افواج کا ایک اہم رول رہا ہے ،جمہوری حکومت کے ساتھ کھڑے ہونے کا حق ادا کیا ہے ۔ایک اچھے انداز سے اپنے ملک کا دفاع اور کشمیریوں کے حق میں ساتھ دینے کا اعلان بھی کیا جس کی مثال پاک فوج کے ترجمان آصف غفور باجوہ کی جانب سے بیان دیا گیا کہ کشمیریوں کا سودا ہماری لاشوں پر سے گزر کر ہوگا ۔یہ بیان ہی اہمیت کا حامل ہے کہ پاک فوج کی ہمدردیاں مقبوضہ کشمیر کی عوام کے ساتھ ہیں ،یہ ایک بڑی مثال ہے۔اب جبکہ مودی کی مثال تو ایک ہاتھی جیسی ہے کیونکہ ہاتھی کی موت ایک چیونٹی ہے اور جب اُس کے سر میں خارش ہوتو اس کا مالک اس کے سر میں بھاری چیز سے بار بار مار کر اُس کو ٹھنڈا کرتا ہے یہی وجہ ہے کہ مودی بار بار لگائی جانے والی کڑکی جو دوسروں کےلئے لگائی جاتی ہے ہمیشہ خود پھنس جاتا ہے ۔پاکستان کی بنیاد اسلام پر قائم ہے جس کی حفاظت پاک فوج کرتی ہے جس ملک کی حفاظت ایسا ادارہ کرتا ہو وہاں پاک فوج جمہوری حکومت کو بھی نیک مشورے دیتی ہے جو عوام اور ملک کی سلامتی کےلئے بھی ضروری ہے ۔اگر آج جنوبی ایشیاءمیں مودی کی درندگی کے باوجود امن قائم ہے تو اُس کا سہرا پاک فوج کو جاتا ہے جو پاکستان کی تاریخ میں ہر دور حکومت میں رہا ہے مگر سیاسی جماعتوں نے اپنا اُلو سیدھا کرکے ہمیشہ پاک فوج کی کارگردگی کو کھڈے لائن لگارکھا ہے جبکہ تحریک انصاف نے پاک فوج کی کاوشیں اور کارگردگی کو سراہ کر اُن کے شانا بشانہ چلنے کا اعلان کیا ،پاک فوج کی قربانیاں اور کارگردگی کو سراہا ہے اور یہ حقیقت بھی ہے کہ اچھے کاموں کی تعریف کرنی چاہےے ۔یہ ضروری نہیں ہے کہ اس سے قبل بھی مختلف سیاسی جماعتوں کے سربراہان نے ملک کی بھاگ دوڑ اپنے ہاتھوں میں لی مگر ہر مشکل وقت جہاں زلزلہ ، سیلاب یا دیگر قدرتی آفات پاکستان کی عوام پر آن پڑی تو اُس وقت بھی پاک فوج نے اپنی عوام کےلئے ہر اول دستے کا کردار ادا کیا اور آج یہی وجہ ہے کہ پاکستان کی 22کروڑ عوام اپنی پاک فوج سے محبت کرتی ہے اُن کے شانہ بشانہ کھڑے ہیں مگر مودی نے اپنی فوج کو مسلمانوں کے خلاف مقبوضہ کشمیر میں اتار کر زبردستی سرکوبی کی کوشش کی مگر اُس نے ہمیشہ نقصان کھایا ۔مقبوضہ کشمیر میں گورنروں کو تعینات کرکے مقبوضہ کشمیر کو بھارت میں ضم کردیا،وقتی طور پر پریشانی کا سامنا تو ہوا دراصل ایسا نہیں ہوسکتا ، عالمی قوانین کے مطابق بھارت نے انسانی حقوق کی پامالی کی ہے ، مسئلہ کشمیر کا حل کشمیریوں کی رائے شماری کے مطابق ہوگا اور یہ حقیقت بھی ہے کہ بھارت تمام تر ناکامیوں کو چھپانے میں بھی ناکام ہوچکا ہے ۔مودی اور اُس کی جھوٹی میڈیا اپنی مکاری کے تحت پاکستان پر جھوٹے پروپیگنڈے کرکے پاکستان کو تنقید کا نشانہ بنارہی ہے مگر پاکستان نے اپنا حق ادا کیا اور اچھے پڑوسی کی طرح اچھے انداز سے جواب دیا ۔پاک فوج کے ترجمان آصف غفور باجوہ نے جب بھی پریس کانفرنس کی جو کہا وہ کردکھایا اور آج تک یہی ہوتا آیا ہے مگر مودی اور اُس کے ٹولے نے آج تک جو بھی الزامات پاکستان پر لگائے اُس کو ثابت کرنے میں مکمل طور پر ناکام رہے ۔اب وزیر اعظم عمران خان اور جنرل قمر جاوید باجوہ کی بہترین حکمت عملی کے باعث کرتارپور راہداری کو کھولنے اور سکھوں کو اپنے گرداوارے کی زیارت کرنے کےلئے چھوٹ دے کر ایک اچھا اقدام کیا جس سے مودی سرکار کے پیٹ میں مروڑے تو اٹھ رہے ہیں مگر وہاں مودی نے پنجاب کو بھی پاکستان کے حوالے کردیا اب یہی طریقہ کار مقبوضہ کشمیر میں بھی ہوگا آخر کار پاکستان نے تو مسئلہ کشمیر کے حل کےلئے بھارت سے مذاکرات چاہے تھے مگر مودی کی نااہلی اور مکاری کے باعث پنجاب بھی پاکستان کے حوالے کیا جائیگا کیونکہ سکھوں کی سب سے بڑی جماعت جو خالصتان تحریک میں پیش پیش ہے اپنے گھروں پر پاکستانی جھنڈے لہرا کر پاکستان کے حق میں نعرے لگانے شروع کردےے ہیں ،دنیا بھر میں سکھوں نے اس اقدام کو سراہا ۔اُنہوں نے یہ بھی کہا کہ بھارت کبھی بھی سکھوں کا مہتر نہیں ہوسکتا ،پاکستان ہی وہ واحد ملک ہے جو سکھوں کو مہتر بھی ہے اور اُن کا خیر خواہ جنہوں نے سکھوں کے مقدس مقامات کو اُن کےلئے کھول کر ایک اچھا اقدام کیا ۔اب اگر اندازہ لگایا جائے جو پاکستان اور پاک فوج پر تنقید کرتے ہیں وہ دراصل ہوش کے اندھے ہیں اُن کو یہ پتا نہیں کہ کشمیر کا سودا نہیں ہوا بلکہ کچھ دیر کے لئے ٹھنڈا پڑ گیا ہے اور اب تو کشمیر کے ساتھ پنجاب بھی پاکستان کا حصہ بنے گا جس کی سب سے بڑی مثال کرتار پور راہداری کی افتتاح ہے۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Chat with us on WhatsApp