جمعرات. جنوری 23rd, 2020

گمراہ قوم کے موجودہ سقراط

تحریر: راﺅ عمران سلیمان
پورا شہر عدالتی کارروائی سننے کے لیے جمع تھا سقراط پر عدالت کی جانب سے تمام الزامات میں بڑا الزام یہ تھا کہ سقراط اس ملک کے نوجوانوں کو اپنے دلائل اور گفتگو سے بہکاتاہے اور گمراہ کرتاہے،جبکہ دیگر الزامات میں یہ تھاکہ سقراط ایک ایسے خدا کا تصور پیش کرتاہے جسے کسی نے نہیں دیکھا اور اس کے لیے وہ مقدس دیوتاﺅں کی توہین کرنے سے بھی نہیں کتراتا،سقراط علم اور دانائی کے فلسفے سے اپنے ارد گرد حامیوں کا ایک بڑا حلقہ جمع کرچکاتھا،عدالت کے اندر اور باہر کھڑا ہر شخص یہ جاننے کے لیے بے تاب تھا کہ سقراط کے ساتھ کیا ہونے والاہے،گو کہ یہ وہ زمانہ تھا کہ جب ایتھنز کی عدالتیں سزائیں موت میں مجرم کو پینے کے لیے زہر دیا کرتی تھی یعنی مجرم کو زبردستی خودکشی پر مجبور کیا جاتاتھا،اس عدالت میں بھی سقراط کی دانائی عدالت پر غالب تھی ،مگرسقراط کی تمام حکمت اور دانائی کے باوجود مخالفین نے ایک نوجوان کو عدالت میں پیش کردیا جس کا کہنا تھا کہ سقراط مجھے ان ان معاملات میں بہکاتا رہاہے ۔عدالت صرف ایک نقطے کے انتظار میں تھی سقراط کا جرم ثابت ہوچکاتھامگر سقراط کے حامیوں اور عدالت کاتشخص بھی برقرار رکھنا تھا اس لیے سقراط کے سامنے سزاکے طور پر دوآپشن رکھیں گے نمبر ایک کے یا توآپ شہر چھوڑ دیں یا پھر یہ زہر کا پیالہ پی لیں !! تاریخ بتاتی ہے کہ سقراط نے جلاوطنی کی بجائے زہر کا پیالہ پینا پسند کیا،اور یہ زہر کا پیالہ کیوں پیااس میں ایک ایسا راز چھپاتھا جسے وقت نے ثابت کیا کہ اس نے جلاوطنی کے بدلے خود زہر کا جام پی کر کتنے ہی سقراطوں کے لبوں سے اس زہر کو آزادکردیا تھا! یعنی اس میں سقراط کی دانائی کاعمل دخل شامل تھاآخرسقراط کا علم کیا تھا اور وہ کس طرح سے اہل علم کے دماغوں پر چھایا ہوا تھا آج کے اس جدید دور میں سب کچھ معلوم کیا جاسکتاہے سبھی کچھ کتابوں سے مل جاتاہے مگر یہ کس نے کہہ دیا کہ سقراط کا علم جاننے والا سطراط بن جائے۔ یہ کہیں نہیں لکھا ۔ اورایسا کبھی نہیں ہوسکتا یقینی طورپر اس علم کے ساتھ وہ خوبیاں بھی انسان کے اندر ہونا ضروری ہیں ۔اب ہم پاکستان کے موجودہ نظام کی جانب چلتے ہیں جسے ریاست مدینہ کا رول ماڈل بنانے کے لیے حکومت کی جوڑ توڑ سے بنائی گئی گزشتہ سے پیوستہ کابینہ کے لوگوں کا سہارا لیا گیاہے جس میںسے کم درجے کے چوروں کو ریاست مدینہ میں ہاتھ پیر کاٹ کریا کوڑوں کی سزاسے نوازاجاتاتھا،جس ریاست مدینہ میں دریائے فرات کے کنارے مرے ہوئے بکری کے بچے کا خون بھی اپنے سرلے لیا جاتھا مگر جس دیس میں 80 کے قریب لوگ ایک ہی ساتھ جل کر راکھ ہوجائے اور ان کا خون بھی ان ہی جھلسی ہوئی لاشوں کے سرتھونپ دیا جائے تو اس ریاست کو کس طرح سے ریاست مدینہ کا رول ماڈل کہاجاسکتاہے ۔اسی طرح سقرااط ایک علم کا نام تھا جس کی جدوجہد کرسی یا اقتدارکے لیے نہیں بلکہ اپنے علم سے لوگوں کے دلوں میں گھر بناناتھاجس کا مقصد ایک ایسے پیغام کو گھر گھر پہچانا تھاجس کی مدد سے بھٹکے ہوئے لوگوں کو راستہ مل سکے ، وزیراعظم عمران خان کی بائیس سالہ سیاسی جدوجہد میں جو نقشہ قوم کے دماغوں میں کھینچا گیا تھا وہ اب لوگوں نے خود ہی اپنے زہنوں سے محو کرنا شروع کردیاہے،وزیراعظم عمران خان کی تقریروں اور وعدوں کو سقراط پر لگے الزام کی طرح کی طرح تو نہیںکہہ سکتاکہ یہ شخص نوجوانوں کو گمراہ کرتاہے ،مگر یہ ضرور کہا جاسکتاہے کہ عمران خان صاحب پچاس لاکھ مکان اور ایک کروڑ نوکریوں او ر مہنگائی ختم کرنے کے وعدوں سے ضرور منہ موڑ چکے ہیں معاملات ابھی تک گمراہی کے اندھیروں میں ہی بھٹک رہے ہیںاور بھٹکی ہوئی قوم اب وہ تمام وعدے وفا دیکھنا چاہتی ہے مگرتاحال ابھی تک انہیں مایوسیوں کے سوا کسی کچھ نہ مل سکاہے یہاں تک درباری اورسرکاری آفتوں نے عوام کے گھروں سے رہے سہے اناج کی خوشبوں کو بھی چھین لیاہے لوگوں کو روزگارتو کیاخاک ملنا تھا جو نوکریوں پر لگے لوگ تھے وہ بھی اب گھروں میں بیٹھ چکے ہیں اور جن کی مشکل سے کوئی لگی بندھی روزی ہے وہ اب اس مہنگائی کے شدید طوفانوں کا مقابلہ کرنے کی سکت نہیں رکھتی، غرض حکومتی ایوانواں سے آج کل قوم کو صبر کرنے کی صدائیں آنا بھی بند ہوچکی ہے ۔ اس ملک کے ایک اہم عہدے پر فائز صدر مملکت کا مسکراکر فرمانا ہے کہ حکومت میں آنے سے پہلے اور شادی سے پہلے ہونے والے وعدوں میں کوئی فرق نہیں ہے ،یہ بیانیہ یقینی طورپر وزیراعظم کے اس بیان سے بھی زیادہ بے رحم ہے جس میں انہوں نے کہاکہ تھا کہ جس ملک میں مہنگائی بڑھ جائے اور بے روزگاری عام ہوجائے تو سمجھ لیں کہ اس ملک کے حکمران کرپٹ ہیں اب میری کیا مجال کہ میں کسی کو کرپٹ کہوں یہ پکی مہریں توخود آپ ہی کی لگوائی ہوئی ہیں ،اس میں کوئی شک نہیں ہے کہ وزیراعظم عمران خان خود بھی ایک زہین آدمی ہیں مگر اس کے ساتھ2014 ایک ایسا انکشاف بھی ہوا تھا کہ انہوں نے قوم کو خوشی کی یہ نوید دی تھی کہ ان کے پاس 2سو ایسے دانشور قسم کے ایکسپرٹ لوگ ہیں جو ملکی امور کو بائیں ہاتھ سے چلانے کا تجربہ رکھتے ہیں خیر ان معاملات کے بعد انہیں عوام نے ووٹ دیا یاپھر وہ کسی بھی طرح سے حکومت میں آئے اس کے بعد جو پہلا ایکسپرٹ تھا وہ عاطف میاں تھا جن کو یہودی لابی کا ایجنٹ قراردیکر چلتا کیا یا پھر وزارت خزانہ کے منصب پر نہ ٹکنے والے اسدعمر صاحب اس کے بعد حکومت کے ڈیڈھ سالوں میں باقی 198دانشوروں کی تلاش کا عمل ابھی تک جاری ہے جو تاحال ابھی تک لاپتہ ہیں اگر یہ کہا جائے کہ اس ملک کی بیوروکریسی اس ملک کو چلارہی ہے تو یہ بیوروکریسی تو پچھلے کئی برسوں سے مختلف حکومتوں کے ساتھ رہی ہے اور اگر یہ کہاجائے کہ ان 198لوگوں میں حکومتی عہدیداربھی شامل ہیں تب بھی یہ ہی سوال بنتا ہے کہ یہ وزرااور یہ مشیر تو اس وقت بھی ان ہی عہدوں پر براجمان تھے جب آپ کنٹینر پرکھڑے ہوکر اپنے 200ایکسپرٹ کی خوبیاں بیان کررہے تھے ۔یعنی کہ ابھی تک تمام تر وعدوں میں سے کوئی ایک وعدہ بھی وفا نہیں ہوسکا ہے مطلب یہ کہ یہاں بھی معاملہ قوم کو گمراہ کرنے کے زمرے میں ہی آتاہے ، مگر جہاں تک سزا کامعاملہ ہے اس میں بس یہ ہی کہا جاسکتاہے کہ جو زہر کا پیالہ سقراط نے پیا تھا وہ ہی زہر کا پیالہ اب گمراہ کرنے والا نہیں بلکہ گمراہ ہونے والا پی رہاہے یعنی قوم پینے پر مجبور ہے ،یقینی طور پر سقراط کو جان بوجھ کر پھنسایا گیا اور ایک گواہ کو عدالت میں سقراط کے خلاف بیان دینے پر تیار کیا گیا ۔اس تحریر کے آخر میں ایک حدیث مبارکہ ضرور پیش کرنا چاہونگا۔حضرت ابو زرغفاری نے فرمایاکہ میں رسول کے ساتھ جارہاتھاکہ آپ صلی اللہ علیہ والہ وسلم نے فرمایاکہ میں اپنی امت پر دجال کے علاوہ ایک اور چیز سے ڈرتاہوں ،آپ نے یہ ہی بات تین بار دھرائی ،میں نے پوچھا یارسول اللہ صلی اللہ علیہ والہ وسلم ! دجال کے علاوہ وہ کون سی ایسی چیز ہے جس کے تعلق سے آپ اپنی امت کے بارے میں ڈرتے ہیں تو اس پر آپ صلی اللہ علیہ والہ وسلم نے فرمایا! جس کا ترجمہ ہے کہ ” گمراہ کرنے والے قائدین سے "۔ اس حدیث مبارکہ میں وہ تمام راز پنہاں ہیں جس کو میں اپنی اس پوری تحریر میں قلمی زور لگاکر بیان کرنا چاہتاہوں ، یعنی رسول خداصلی اللہ علیہ والہ وسلم نے اپنی امت پر آنے والے عذابوں کو پہلے ہی پہچان لیا تھا۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Chat with us on WhatsApp