جمعرات. جنوری 23rd, 2020

ایل این جی کیس: مفتاح اسمٰعیل کو بھی ضمانت مل گئی

اسلام آباد(نیٹ نیوز) ملک میں کرپشن اور آمدن سے زائد اثاثوں کے کیسز میں گرفتار اپوزیشن لیڈر کے رہنماؤں کی ضمانت کا سلسلہ جاری ہے اور آج بھی مسلم لیگ (ن) کے دور کے وزیر خزانہ مفتاح اسمٰعیل کی درخواست ضمانت منظور ہوگئی۔وفاقی دارالحکومت کی عدالت عالیہ میں چیف جسٹس اطہر من اللہ اور جسٹس میاں گل حسن پر مشتمل بینچ نے مائع قدرتی گیس (ایل این جی) کیس میں گرفتار مفتاح اسمٰعیل کی ضمانت کی درخواست پر سماعت کی۔سماعت کے دوران مفتاح اسمٰعیل کے وکیل نے عدالت کو بتایا کہ جو الزامات لگائے گئے ہیں ان کے حوالے سے فیصلہ ہوچکا ہے، تینوں دستاویز میں ایک ہی الزام لگایا گیا ہے۔وکیل نے عدالت کو بتایا کہ ایک کنسلٹنٹ کو ای سی سی نے تقرر کیا تھا، جس پر اسلام آباد ہائی کورٹ کے چیف جسٹس نے پوچھا کہ کیا اس کنسلٹنٹ کا تقرر ‘یو ایس ایڈ’ نے کیا تھا۔اس دوران نیب پراسیکیوٹر نے عدالت کو بتایا کہ کنسلٹنٹ کا تقرر یو ایس ایڈ نے کیا ہے، جس پر چیف جسٹس نے ریمارکس دیے کہ جب رقم یو ایس ایڈ نے دی تو پیپرا رولز لاگو ہی نہیں ہوتے۔دوران سماعت ملزم کے ریمانڈ سے متعلق چیف جسٹس نے استفسار کیا کہ آپ کے پاس ملزم کتنے دن ریمانڈ پر رہا، جس پر نیب پراسیکیوٹر نے بتایا کہ 49 دن ملزم ہمارے پاس ریمانڈ پر رہا۔اسی پر چیف جسٹس نے پوچھا کہ کیا کوئی ریفرنس بھی فائل کیا گیا ہے، جس پر نیب پراسیکیوٹر نے جواب دیا کہ جی ضمنی ریفرنس 12 دسمبر کو دائر کیا گیا تھا۔پراسیکیوٹر نیب کی بات پر چیف جسٹس نے پوچھا کہ اب ملزم جیل میں ہے، آپ کس بنیاد پر مزید انہیں رکھنا چاہتے ہیں، کیا ملزم سے کوئی تفتیش کرنی ہے کیا وہ تعاون نہیں کر رہے۔سماعت کے دوران جسٹس میاں گل حسن اورنگزیب نے پوچھا کہ مفتاح اسمٰعیل کی حراست کے دوران تفتیش میں کیا پیش رفت ہوئی؟ جس پر نیب پراسیکیوٹر نے جواب دیا کہ حراست کے دوران کوئی پیش رفت نہیں ہوئی، صرف دستاویزات حاصل کیے گئے۔نیب پراسیکیوٹر نے عدالت کو بتایا کہ بغیر کسی ٹینڈر اور اشتہارات کے خزانے کو نقصان پہنچایا گیا، ساتھ ہی انہوں نے بتایا کہ سیکریٹری پیٹرولیم ایل این جی کیس میں وعدہ معاف گواہ بن گئے ہیں۔دوران سماعت چیف جسٹس نے کہا کہ سیکریٹری پرنسپل اکاؤنٹنگ افسر ہوتا ہے، اگر سیکریٹری نہ کرے تو کوئی بھی کام نہیں ہوتا۔ساتھ ہی انہوں نے پوچھا کہ سیکریٹری نے ایل این جی ٹرمینل کی منظوری کے وقت کہاں لکھا کہ کچھ غلط ہورہا ہے۔عدالت نے نیب پراسیکیوٹر سے استفسار کیا کہ آپ ملزم کو کیوں جیل میں رکھنا چاہتے ہیں، جس پر نیب نے جواب دیا کہ مفتاح اسمٰعیل کے بیرون ملک فرار ہونے کا خدشہ ہے۔نیب پراسیکیوٹر نے بتایا کہ ایل این جی کیس کے گواہوں کو جان سے مارنے کی دھمکیاں دی جارہی ہیں، جس پر چیف جسٹس نے پوچھا کہ کس گواہ کو دھمکی دی گئی؟ کیس میں گواہان کونسے ہیں، اس پر نیب پراسیکیوٹر نے پوچھا کہ زوہیر صدیقی گواہ ہیں۔اس پر جسٹس میاں گل حسن اورنگزیب نے کہا کہ وہ تو خود کئی ریفرنس میں نامزد ہیں، ساری دنیا ان کو جانتی ہے۔اس پر چیف جسٹس اسلام آباد ہائی کورٹ نے کہا کہ جرم ثاب ہونے تک ملزم بے گناہ تصور ہوتا ہے جبکہ وائٹ کالر کرائم میں کسی کو گرفتار کرنے کی ضرورت ہی نہیں ہوتی کیونکہ اس کرائم میں شواہد موجود ہوتے ہیں۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Chat with us on WhatsApp