جمعرات. جنوری 23rd, 2020

کوئٹہ کے علاقے مکانگی روڈ پر ہسپتال کے قریب دھماکا، 2 افراد جاں بحق، 14 زخمی

کوئٹہ (نیوز ڈیسک) کوئٹہ کے علاقے مکانگی روڈ پر دھماکے سے دو افراد کے جاں بحق جبکہ 14 کے زخمی ہونے کی اطلاعات ہیں۔ قانون نافذ کرنے والے اداروں نے علاقے کا کنٹرول سنبھال لیا ہے۔دھماکے کی اطلاع ملتے ہی امدادی ٹیمیں موقع پر پہنچیں اور ایمبیولینسوں کے ذریعے زخمیوں کو ہسپتال منتقل کرنے کا عمل مکمل کیا جہاں انھیں طبی امدادی دی جا رہی ہے۔ زخمیوں میں راہگیر بھی شامل ہیں۔ دھماکا رش والے علاقے میں گاڑی کے قریب ہوا۔دوسری جانب پولیس اور دیگر قانون نافذ کرنے والے ادارے دھماکے کی اطلاع ملتے ہی حرکت میں آئے اور موقع پر پہنچ کر علاقے کو تمام قسم کی آمدورفت کیلئے سیل کردیا۔ پولیس حکام کا کہنا ہے کہ دھماکے کی نوعیت معلوم کی جا رہی ہے۔عینی شاہدین کے مطابق دھماکے کی شدت اتنی شدید تھی کہ اس کی آواز دور دور تک سنی گئی جبکہ دھماکے سے عمارتوں اور دکانوں کے شیشے ٹوٹ گئے۔ذرائع کا کہنا ہے کہ یہ دھماکا کوئٹہ کے انتہائی حساس علاقہ میں ہوا جس میں دہشت گردوں نے سیکیورٹی فورسز کی گاڑی کو نشانہ بنانے کی کوشش کی۔ جائے وقوعہ سے شواہد اکٹھے کیے جا رہے ہیں۔خیال رہے کہ اس اس سے پہلے بھی کوئٹہ کے اسی علاقے میں سیکیورٹی فورسز کی گاڑی کونشانہ بنایا گیا تھا۔وزیراعلیٰ بلوچستان جام کمال نے بم دھماکے کی شدید الفاظ میں مذمت کرتے ہوئے دہشتگردی واقعہ کی رپورٹ طلب کر لی ہے۔ انہوں نے دہشتگردی کی بزدلانہ کارروائی میں قیمتی جانوں کے ضیاع پر دکھ اور افسوس کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ دہشتگرد ایک مرتبہ پھر شہر اور صوبے کا امن خراب کرنا چاہتے ہیں، تاہم ان کے ناپاک عزائم کو ناکام بناتے ہوئے دیرپا امن کے قیام کو ہر صورت یقینی بنایا جائے گا۔جام کمال کا کہنا تھا کہ معصوم اور بے گناہ شہریوں کو دہشت گردی کا نشانہ بنانے والے عناصر کو قانون کے کٹہرے میں لایا جائے گا۔ انہوں نے حکام کو ہدایت جاری کی کہ فوری طور پر شہر میں سیکیورٹی کے اقدامات کو مزید موثر اور سخت بناتے ہوئے دہشت گردوں کو دوبارہ سے سر اٹھانے کا موقع نہ دیا جائے۔انہوں نے زخمیوں کو علاج معالجہ کی بہترین سہولیات دینے کی ہدایت بھی کی اور کہا کہ سیکریٹری صحت خود اس تمام عمل کی نگرانی کریں۔ وزیراعلیٰ نے دھماکے میں جاں بحق ہونے والے افراد کے لواحقین سے تعزیت اور ہمدردی کا اظہار کیا جبکہ ان کی مغفرت اور زخمیوں کی جلد صحت یابی کی دعا بھی کی۔ڈی آئی جی بلوچستان نے کہا ہے کہ کرائم سین کی انویسٹی گیشن جاری ہے، ابھی تک کسی نیتجے پر نہیں پہنچے اور نہ ہی شواہد مکمل ہوئے ہیں، اس لیے ابھی کچھ کہنا قبل ازوقت ہوگا، علاقے میں اندھیرے کی وجہ سے شہادتیں نامکمل ہیں۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Chat with us on WhatsApp